بنگلورو،25؍اپریل(ایس او نیوز) معروف فلم اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے کہاکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ریاست میں بی جے پی اقتدار پر نہیں آئے گی، اور بدقسمتی سے اگر آبھی گئی تو یڈیورپاتین ماہ بھی وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے ریاستی بی جے پی قائدین پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کو اقتدار پر لانے کے لئے دن رات یڈیورپا محنت کررہے ہیں ، لیکن اقتدار اگر مل گیا تو بی جے پی سب سے پہلے یڈیورپا کو ہی نشانہ بنانے والی ہے۔ ہندوتوا کے متعلق بی جے پی کے ایجنڈے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہندو مذہب بی جے پی کو ٹھیکے میں نہیں ملا ہے۔ کسی سیاسی جماعت کو اگر اقتدار ملتا ہے تو اسے مذہب کی ٹھیکے داری چھوڑ کر عوام کے تمام طبقات کی فلاح وبہبود کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ ایسا کرنے کی بجائے ملک کے مختلف ریاستوں میں قائم بی جے پی حکومتیں ذات پات کی سیاست ، منافرت عام کرنے میں لگی ہوئی ہیں، ان ریاستوں میں نظم وضبط کا مسئلہ بی جے پی کی گود میں بیٹھے ہوئے میڈیا کو نظر نہیں آرہا ہے۔ بعض حلقوں میں انہیں ہندو دشمن قرار دئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ ہندو مذہب کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ان نظریات کے دشمن ہیں جو ہندو مذہب کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی مذہب سماج میں روشنی کا ذریعہ بننا چاہئے، لیکن کچھ عناصر ہندو مذہب کا نام لے کر اندھیرا پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میسور کے رکن پارلیمان پرتاب سمہا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پرکاش رائے نے کہاکہ یہ شخص رکن پارلیمان کے عہدے کے لائق ہی نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کو یڈیورپاکے مقابلے بہتر قرار دیتے ہوئے پرکاش رائے نے کہاکہ پہلے تین سال نہ سہی لیکن اپنے آخری دوسالوں میں سدرامیا نے اس قدر کام کیا ہے کہ عوام ان سے مطمئن ہیں۔